صحت سے متعلق مضامین اور تدابیر چہرے اور جلد کے مسائل

Breaking

Post Top Ad

Tuesday, September 10, 2019

مردوں اور عورتوں کی اقسام برائے انزال


مردوں اور عورتوں کی اقسام برائے انزال
>


مباشرت کے دورانیہ کی بنیاد پر مرد اور عورت با لعموم تین اقسام کے ہوتے ہیں،جلد انزال
ہونے والے ،درمیانی درجہ پر انزال ہونے والے،دیر سے انزال ہونے والے
سب سے اول اُن مرد حضرات کا ذکر ہے جو آج کے معاشرے میں 70 فیصد سے زائد ہیں
دوسرے نمبر پر ذکرہونے والے حضرات جو کہ 30 فیصد جبکہ آخر میں تذکرہ پانے والے
حضرات کا تناسب پانچ سے آٹھ فیصد رہ گیا ہے آج
کل کی کیفیات کے تحت وجود میں آیا اب جو ایک طوفان کی طرح سٹیرائیڈز بازارمیں آئی ہیں جو
کہ ہر صورت میں انسان کیلیے تباہ کن ہیں عورت مرد دونوں کے لیے ہے نے صورت حال بدل
دی ہے مگر لمحہ فکریہ ہے کہ اس سے حاصل شدہ عارضی مزہ آدمی کی ذندگی میں زہر گھول
دیتا ہے شروع میں شوق کے زیر اثر آدمی پیسوں کے ساتھ اپنی صحت بگاڑتا ہے اور سب سے
ذیادہ جو بات قابل غور ہے کہ عورت کو ایک عارضی کیفیت کے تحت جس عادت میں مبتلا کرتا
ہےاُس کو چھ ماہ سے زائد نہیں چلا سکتا کہ اُس کے بعد اکثر پیسے ختم ہوجاتے ہیں جبکہ
صحت تو دوسرے تیسرے ماہ ہی سا تھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے اور یوں عورت اپنی عادات
کو پورا کرنے کے جو دروازے کھولتی ہے اُس میں کوئی تالہ باقی نہیں رہتا اور اس کا ذمہ دار
خود مرد ہی ہوتا ہے
سب سے بہتر صورت یہ ہوتی ہے جب مرد اُس وقت انزال پر پہنچے جب عورت جنسی لذت کی
انتہا پر ہو تو اس کو کامیاب مباشرت سمجھا اور کہا جاتا ہے ہر مرد فطری طور پر جنسی تعلقات
میں اپنے انزال کاوقت اور مباشرت کے لطف کو بڑھاسکتاہے
اسی طرح عورت بھی فطری طور پر اس کی خواہش رکھتی ہے کہ سکون اور سرور بخش فارغ۔ہو جائے اس بارے میں اگر مرد یا عورت دونوں جنسی ملاپ کو طویل کرنا چاہتے ہیں تو اس
میں سے لطف کا عمل کم کرنا پڑے گا کیونکہ لطف کی ذیادتی اور شدت عمل مباشرت کی طولت
کو سمیٹی جاتی ہے اور مرد جلد منزل ہو جاتا ہے
عورت کےفارغ ہونے کی علامات
عورت جب مباشرت کے لیے تیار ہو تی ہے تو آنکھوں اور جسمانی حرکات میں لگاوٹ آجاتی
ہےاور پستان سخت ہو کر کھڑے محسوس ہوتے ہیں اور مباشرت کے دوران جب
عورت فارغ ہو چکی ہے تو اُس کے تمام اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں سر پستان بلکل ویسے
ہی ہو جاتے ہیں جیسے بھینس یا گائے کے تھن دودھ نکال لینےکے بعد ہو جاتے ہیں۔
اکثر عورتیں تو بس بے جان ہو کے ھر حرکت چھوڑ دیتی ہیں۔
چہرے
کی رنگت زرد یا سفیدی مائل ہوجاتی ہے آنکھوں میں قربان ہوجانے والے تاثرات ہوتے ہیں
پیشانی شرم کی وجہ سے ٹھنڈے پسینوں سے تر ہوجاتی ہے اور وہ اپنا چہرہ مقابل مرد کی
بغلوں اورسینے میں گھسانے کی کوشش کرتی ہےجبکہ شرم گاہ سےانزال ہو نےوالی رطوبت
بہنا شروع ہو جاتی ہے وقت انزال عورت مکمل طور پراپنا وجود مرد کے وجود میں سما دینے
والی کیفیت کا اظہار کرتی ہے بے اختیار ہو کر مقابل مرد کو چومتی ہے یہی اصل وقت ہوتا ہے
جبکہ مرد کو بھی انزال ہو جانا چاہیے وگزنہ بعض عورتیں منزل ہو کر اپنا آپ مرد سے چھڑانے
کی کوشش کرتی ہیں اورچند عورتیں تواس عمل سے نفرت کرنا شروع کر دیتی ہیں مباشرت کے
دوران اندام نہانی سے سفید رطوبت کاخارج ہونا عورت کے فارغ ہونے کی ظاہری علامت ہے
اس موقعہ پرعام طور پرمرد فارغ نہیں ہو تا مگر آج کل کے بے راہ رو معاشرے میں یہ تناسب
اُلٹ ہوچکاہے اوراس وجہ سے مردجلد فارغ ہو کرالگ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عورت کے جذبات یعنی Feelingآستہ آستہ ختم ہوتی جاتی ہیں اور عورت ذہنی دباو کاشکار ہوجاتی ہے اورعورت اُس کیفیت کے جہنم
میں جھلسنا شروع ہو جاتی ہے اور نتیجہ مرد سے نفرت اور کسی دوسرے سے تعلق کا مجبورا
آغاز ہو جاناہے
اس بارے میں یہ بات لازمی یاد رکھیں کہ لذت کی شدت میں عورت فارغ ہوے بغیر بھی بعض
انزائمز بصورت رطوبت خارج کرتی ہے اس میں عورت کا جسمانی طور پر کمزور ہونا لیکوریا
کا مرض اورعورت کے مزاج میں تری کی ذیادتی ہے مگر وہ رطوبت خارج ہوتے وقت عورت
کاکوئی جسمانی ری ایکشن رد عمل نہیں ہوتا بلکہ جس طرح نزلہ شدید ہو تو ناک سے رطوبت
بلاارادہ بہتی رہتی ہے اورفرد کو اس کا احساس نہیں ہوتا اسی طرح اس رطوبت کے نکلنے
کا مباشرت کےعمل سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
Admn
Fatimaمردوں اور عورتوں کی اقسام برائے انزال

مباشرت کے دورانیہ کی بنیاد پر مرد اور عورت با لعموم تین اقسام کے ہوتے ہیں،جلد انزال
ہونے والے ،درمیانی درجہ پر انزال ہونے والے،دیر سے انزال ہونے والے
سب سے اول اُن مرد حضرات کا ذکر ہے جو آج کے معاشرے میں 70 فیصد سے زائد ہیں
دوسرے نمبر پر ذکرہونے والے حضرات جو کہ 30 فیصد جبکہ آخر میں تذکرہ پانے والے
حضرات کا تناسب پانچ سے آٹھ فیصد رہ گیا ہے آج
کل کی کیفیات کے تحت وجود میں آیا اب جو ایک طوفان کی طرح سٹیرائیڈز بازارمیں آئی ہیں جو
کہ ہر صورت میں انسان کیلیے تباہ کن ہیں عورت مرد دونوں کے لیے ہے نے صورت حال بدل
دی ہے مگر لمحہ فکریہ ہے کہ اس سے حاصل شدہ عارضی مزہ آدمی کی ذندگی میں زہر گھول
دیتا ہے شروع میں شوق کے زیر اثر آدمی پیسوں کے ساتھ اپنی صحت بگاڑتا ہے اور سب سے
ذیادہ جو بات قابل غور ہے کہ عورت کو ایک عارضی کیفیت کے تحت جس عادت میں مبتلا کرتا
ہےاُس کو چھ ماہ سے زائد نہیں چلا سکتا کہ اُس کے بعد اکثر پیسے ختم ہوجاتے ہیں جبکہ
صحت تو دوسرے تیسرے ماہ ہی سا تھ چھوڑنا شروع کردیتی ہے اور یوں عورت اپنی عادات
کو پورا کرنے کے جو دروازے کھولتی ہے اُس میں کوئی تالہ باقی نہیں رہتا اور اس کا ذمہ دار
خود مرد ہی ہوتا ہے
سب سے بہتر صورت یہ ہوتی ہے جب مرد اُس وقت انزال پر پہنچے جب عورت جنسی لذت کی
انتہا پر ہو تو اس کو کامیاب مباشرت سمجھا اور کہا جاتا ہے ہر مرد فطری طور پر جنسی تعلقات
میں اپنے انزال کاوقت اور مباشرت کے لطف کو بڑھاسکتاہے
اسی طرح عورت بھی فطری طور پر اس کی خواہش رکھتی ہے کہ سکون اور سرور بخش فارغ۔ہو جائے اس بارے میں اگر مرد یا عورت دونوں جنسی ملاپ کو طویل کرنا چاہتے ہیں تو اس
میں سے لطف کا عمل کم کرنا پڑے گا کیونکہ لطف کی ذیادتی اور شدت عمل مباشرت کی طولت
کو سمیٹی جاتی ہے اور مرد جلد منزل ہو جاتا ہے
عورت کےفارغ ہونے کی علامات
عورت جب مباشرت کے لیے تیار ہو تی ہے تو آنکھوں اور جسمانی حرکات میں لگاوٹ آجاتی
ہےاور پستان سخت ہو کر کھڑے محسوس ہوتے ہیں اور مباشرت کے دوران جب
عورت فارغ ہو چکی ہے تو اُس کے تمام اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں سر پستان بلکل ویسے
ہی ہو جاتے ہیں جیسے بھینس یا گائے کے تھن دودھ نکال لینےکے بعد ہو جاتے ہیں۔
اکثر عورتیں تو بس بے جان ہو کے ھر حرکت چھوڑ دیتی ہیں۔
چہرے
کی رنگت زرد یا سفیدی مائل ہوجاتی ہے آنکھوں میں قربان ہوجانے والے تاثرات ہوتے ہیں
پیشانی شرم کی وجہ سے ٹھنڈے پسینوں سے تر ہوجاتی ہے اور وہ اپنا چہرہ مقابل مرد کی
بغلوں اورسینے میں گھسانے کی کوشش کرتی ہےجبکہ شرم گاہ سےانزال ہو نےوالی رطوبت
بہنا شروع ہو جاتی ہے وقت انزال عورت مکمل طور پراپنا وجود مرد کے وجود میں سما دینے
والی کیفیت کا اظہار کرتی ہے بے اختیار ہو کر مقابل مرد کو چومتی ہے یہی اصل وقت ہوتا ہے
جبکہ مرد کو بھی انزال ہو جانا چاہیے وگزنہ بعض عورتیں منزل ہو کر اپنا آپ مرد سے چھڑانے
کی کوشش کرتی ہیں اورچند عورتیں تواس عمل سے نفرت کرنا شروع کر دیتی ہیں مباشرت کے
دوران اندام نہانی سے سفید رطوبت کاخارج ہونا عورت کے فارغ ہونے کی ظاہری علامت ہے
اس موقعہ پرعام طور پرمرد فارغ نہیں ہو تا مگر آج کل کے بے راہ رو معاشرے میں یہ تناسب
اُلٹ ہوچکاہے اوراس وجہ سے مردجلد فارغ ہو کرالگ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عورت کے جذبات یعنی Feelingآستہ آستہ ختم ہوتی جاتی ہیں اور عورت ذہنی دباو کاشکار ہوجاتی ہے اورعورت اُس کیفیت کے جہنم
میں جھلسنا شروع ہو جاتی ہے اور نتیجہ مرد سے نفرت اور کسی دوسرے سے تعلق کا مجبورا
آغاز ہو جاناہے
اس بارے میں یہ بات لازمی یاد رکھیں کہ لذت کی شدت میں عورت فارغ ہوے بغیر بھی بعض
انزائمز بصورت رطوبت خارج کرتی ہے اس میں عورت کا جسمانی طور پر کمزور ہونا لیکوریا
کا مرض اورعورت کے مزاج میں تری کی ذیادتی ہے مگر وہ رطوبت خارج ہوتے وقت عورت
کاکوئی جسمانی ری ایکشن رد عمل نہیں ہوتا بلکہ جس طرح نزلہ شدید ہو تو ناک سے رطوبت
بلاارادہ بہتی رہتی ہے اورفرد کو اس کا احساس نہیں ہوتا اسی طرح اس رطوبت کے نکلنے
کا مباشرت کےعمل سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا




No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Your Ad Spot

Pages